حرام مال والے سے قرض لینا

13 فروری 2024

بسم الله الرحمن الرحيم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہایک شخص انشورنس میں ملازم ہے اور اس کی اکثر کمائی سود پر مشتمل ہے کیا اس سے کسی دوسرے شخص کا قرض لینا درست ہے؟

 

الجواب حامدا ومصلیا

ناجائز ملازمت سے حاصل ہونے والی کمائی کو فقہی اصطلاح میں ملک خبیث کہا جاتا ہے جس کے وبال سے بچنے کے لیے اس کو بغیرثواب کی نیت کے صدقہ کرنا واجب ہے، اور اسے استعمال کرنا ناجائز ہے۔ تاہم اگر کسی نے اسے استعمال کرلیا اور قرض کے طور پر دے دیاتو وہ اس عمل کی وجہ سے گناہ گار ہوگا ۔البتہ جس نے قرض وصول کیا ہے، اس نے مالک سے ہی وصول کیا ہے، لہذا اس کے عمل کو ناجائز نہیں کہا جاسکتا، نہ ہی اس رقم کے استعمال اور اس سے حاصل ہونے والے نفع کو ناجائز کہا جاسکتا ہے۔ تاہم اگر قرض لینے والے کو علم ہو کہ قرض دینے والا ناجائز کاروبار یا آمدنی سے قرض دے رہا ہے تو اس سے نہیں لینا چاہیے؛تاکہ اس کے ناجائز عمل کی حوصلہ شکنی ہو۔

لہذا صورت مذکورہ میں بھی بہتر ہے کہ حرام آمدن والے شخص سے قرض لینے کی بجائے حلال آمدن والے شخص سے قرض لیا جائے،تاہم اگر کوئی حلال آمدن والا قرض دینے پر تیار نہ ہو تو بامر مجبوری مذکورہ شخص سے غیر سودی قرض لینے کی گنجائش ہوگی۔

 

كما فى رد المحتار:

والحاصلأنهإنعلمأربابالأموالوجبردهعليهم،وإلافإنعلمعينالحراملايحللهويتصدقبهبنيةصاحبه......وفي الخانية: امرأة زوجها في أرض الجور، وإن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله وكذا لو اشترى طعاما أو كسوة من مال أصله ليس بطيب فهي في سعة من تناوله والإثم على الزوج. اهـ (قوله وسنحققه ثمة) أي في كتاب الحظر والإباحة. قال هناك بعد ذكره ما هنا لكن في المجتبى: مات وكسبه حرام فالميراث حلال، ثم رمز وقال: لا نأخذ بهذه الرواية، وهو حرام مطلقا على الورثة فتنبه. اهـ. ح، ومفاده الحرمة وإن لم يعلم أربابه وينبغي تقييده بما إذا كان عين الحرام ليوافق ما نقلناه، إذ لو اختلط بحيث لا يتميز يملكه ملكا خبيثا، لكن لا يحل له التصرف فيه ما لم يؤد بدله كما حققناه قبيل باب زكاة المال فتأمل.

(5/ 99/ مطلبردالمشترىفاسداإلىبائعهفلميقبله/دار الفكر).