بسم الله الرحمن الرحيم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہہماری کمپنی دودھ کا کاروبار کرتی ہے اور ہم مختلف لوگوں سے جنھوں نے بھینسیں اور گائیں رکھی ہوئی ہیں دودھ خریدتے ہیں اور ہمارا کاروبار اچھا چل رہا تھا لیکن سیلاب کی وجہ سے جانوروں کا کافی زیادہ نقصان ہوا اور اب ہمارے پاس دودھ کی قلت ہو گئی ہے اور ہمارا کاروبار کچھ کم ہوا۔ اس کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے ہم نے ایک غیر ملکی کمپنی سے معاہدہ کیا اور اس نے کہا کہ ہم انویسٹمنٹ کرتے ہیں اور آپ کو مثلا دو کروڑ روپے دیتے ہیں آپ اس رقم کے جانور خرید کر لوگوں کو دے دیں اور ہم آپ سے ماہانہ دو پرسنٹ منافع لیں گے اپنی رقم پر اور آپ یہ جانور ادھار پر فروخت کر دیں اور جن لوگوں کو آپ یہ جانور دیں ان سے رقم لینے کے بجائے روزانہ کی بنیاد پر دودھ لینا شروع کر دیں اور جب جانور کی قیمت پوری ہوجائے تو معاملہ ختم ہو جائے گا جانور جس نے خریدا تھا اس کا ہو جائے گا اور رقم تھوڑی تھوڑی کر کے ہم کو منافع سمیت واپس مل جائے گی اس پورے عقد میں ہمارا فائدہ یہ ہوگا کہ ہم کو دودھ کی کمی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور ہماری ضرورت کے مطابق ہم کو دودھ ملتا رہے گا شریعت میں اس کا کیا حکم ہے ہماری شرائط درج ذیل ہیں۔
1. ہم پرائیویٹ کمپنی سے نقد رقم لے کر جانور خرید کر مختلف لوگوں پر جن سے ہم دودھ خریدتے ہیں ادھار پر فروخت کریں گے۔
2. کمپنی کو ہم ڈھائی فیصد منافع پوری رقم کے بدلے ہر ماہ دیں گے۔
3. جانور کی قیمت کو رقم کے بجائے دودھ کی صورت میں ہم خود وصول کر کے کمپنی کو ماہانہ بنیادوں پر واپسی کریں گے۔
4. ہم دودھ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہی خریدیں گے ادھار کی وجہ سے دودھ کے ریٹ میں کمی نہیں کریں گے۔
5. پرائیویٹ کمپنی ہم کو رقم کی فراہمی اعتماد کی بنیاد پر کرے گی اور ہم ان سے اس پر کوئی اجرت یا کمیشن نہیں وصول کریں گے ۔
6. دودھ فروش ہم پر اپنا دودھ فروخت کرنے کا پابند ہوگا اور سارا دودھ ہم کو ہی دے گا ہم پہلے سے بھی اس سے دودھ خرید رہے ہیں۔
7. جس فارمر کو جانور فراہم کیا جائے گا اس کے ساتھ شروع میں شرائط طے کی جائیں گی کہ اگر اگر وہ چھ ماہ میں پوری رقم دودھ کی صورت میں کلیئر کر دے گا تو اس سے پندرہ فیصد منافع لیا جائے گا اور اگر بارہ ماہ میں پوری رقم کلیئر کرتا ہے تو تو تیس فیصد منافع جانور کی قیمت کے اوپر دے گا۔
الجواب حامدا ومصلیا
واضح رہے کہ ہر شخص کےلیے اپنی مملوکہ چیزکو اصل قیمت میں کمی زیادتی کے ساتھ نقد اور ادھار دونوں طرح فروخت کرنے کا اختیار ہوتا ہے، اور جس طرح ادھار پر سامان فروخت کرنے والا اپنے سامان کی قیمت یک مشت وصول کرسکتا ہے ، اسی طرح اس کو یہ بھی اختیار ہوتا ہے کہ وہ اس رقم کو قسط وار وصول کرےلہٰذ ا صو رت مسئولہ میں غیرملکی کمپنی جو انوسٹمنٹ کرنا چا ہتی ہے اس کی حیثیت مؤکل کی ہے اور آپ کی حیثیت وکیل کی ہے کہ وہ کمپنی آپ کو وکیل بنارہی ہے کہ آپ یہ انوسٹمنٹ لے کر کسی کو جانور خرید کردے دیں اور پھر قیمت میں بجائے ان سے رقم کے روزانہ کے بنیاد پر دودھ لینا شروع کردیں تو گویا کہ یہ قسطوں پر بیع ہے جو کہ جائز ہے البتہ قسطوں پر خرید وفروخت میں درج ذیل شرائط کا لحاظ اور رعایت رکھنا ضروری ہے:
قسط کی رقم متعین ہو، مدت متعین ہو، معاملہ متعین ہو کہ نقد کا معاملہ کیا جارہا ہے یا ادھار، اور عقد کے وقت مجموعی قیمت مقرر ہو، اور ایک شرط یہ بھی ہے کہ کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر کی صورت میں اس میں اضافہ (جرمانہ) وصول نہ کیا جائے، اور جلد ادائیگی کی صورت میں قیمت کی کمی عقد میں مشروط نہ ہو، اگر بوقتِ عقد یہ شرط ہوگی تو پورا معاملہ ہی فاسد ہوجائے گا، ان شرائط کی رعایت کے ساتھ قسطوں پر خریدوفروخت کرنا جائز ہے۔
لہذا صورت مذکورہ کی جائز صورت یہ ہے کہ آپ پرائیویٹ کمپنی کے وکیل کی حیثیت سے جانور خرید کر فارمرز پر ادھار فروخت کردیں لیکن شروع میں ہی ایک قیمت مقرر کر لیں مثلا آپ نے جانور ایک لاکھ کا خریدا تو اس کو ڈیڑھ لاکھ ادھار پر فروخت کر دیں اور پھر یہ ڈیڑھ لاکھ روپے نقد یا دودھ کی صورت میں ان فارمرز سے قسطوں میں وصول کر کے کمپنی کو دے دیں۔اس میں قسط لیٹ ہونے کی صور ت میں کوئی کمی بیشی نہ کی جائے۔ نیز اگر جانور ہلاک ہو جاتے ہیں یا کسی طرح بھی نقصان ہوتا ہے تو یہ پرئیویٹ کمپنی کا ہی ہو گا ۔
كما فى الهداية:
قال: "ويوكلمنيتصرففيه" لأنالتوكيلبالبيعوالشراءمنتوابعالتجارةوالشركةانعقدتللتجارة،بخلافالوكيلبالشراءحيثلايملكأنيوكلغيرهلأنهعقدخاصطلبمنهتحصيلالعينفلايستتبعمثله.
قال: "ويدهفيالماليدأمانة" لأنهقبضالمالبإذنالمالكلاعلىوجهالبدلوالوثيقةفصاركالوديعة.
(3/ 11/كتابالشركة/فصل: "ولاتنعقدالشركةإلابالدراهموالدنانير.../داراحياءالتراثالعربي).
وفى مجلة الأحكام العدلية:
المال الذي قبضه الوكيل بالبيع والشراء وإيفاء الدين واستيفائه وقبض العين من جهة الوكالة هو في حكم الوديعة في يده فإذا تلف بلا تعد ولا تقصير فلا يلزم الضمان.
(ص: 284/الفصلالأولفيبيانأحكامالوكالةالعمومية/ط:نور محمد).
وفى فتحالقديرلكمالبنالهمام:
إنمايجوزالبيعبالنسيئةإذالميكنفيلفظهمايدلعلىالبيعبالنقد،فأماإذاكانفيلفظهمايدلعلىالبيعبالنقدلايجوزالبيعبالنسيئة.
(18/ 103/كتابالوكالة/فصلفيالوكالةالبيع/موقعالإسلام).
وفى ردالمحتار:
لأنللأجلشبهابالمبيع. ألاترىأنهيزادفيالثمنلأجله.
(5/ 142/كتابالبيوع/بابالمرابحةوالتولية/دارالفكر).
وقى بدائعالصنائع:
ولواشترىشيئانسيئةلميبعهمرابحةحتىيبين؛لأنللأجلشبهةالمبيعوإنلميكنمبيعاحقيقة؛لأنهمرغوبفيهألاترىأنالثمنقديزادلمكانالأجل.
(5/ 224/كتابالبيوع/فصلفيبيانمايجببيانهفيالمرابحةومالايجب/دارالكتبالعلمية).
وأيضا:
(وأما) الوكيلبالشراءفالتوكيلبالشراءلايخلوإماأنكانمطلقاأوكانمقيدا،فإنكانمقيدايراعىفيهالقيدإجماعالماذكرنا،سواءكانالقيدراجعاإلىالمشترىأوإلىالثمن،حتىإنهإذاخالفيلزمالشراءإلاإذاكانخلافاإلىخيرفيلزمالموكل،مثالالأول: إذاقال: اشترليجارية؛أطؤها،أوأستخدمهاأوأتخذهاأمولد،فاشترىجاريةمجوسيةأوأختهمنالرضاعأومرتدةأوذاتزوج،لاينفذعلىالموكل،وينفذعلىالوكيل.
(6/ 29فصل في بيان حكم التوكيل/دار الكتب العلمية)۔
وأيضا:
أنالوكيلبالشراءيتصرفلموكلهلالنفسهألاترىأنحكمتصرفهيقعلموكلهلاله۔
(5/ 301 باب خيار الرؤية/دار الكتب العلمية)۔