عورتوں کی شاپنگ

31 جنوری 2024

بسم الله الرحمن الرحيم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ عورتوں کا بغیر محرم کے شاپنگ کے لئے جانا یا ڈرائیونگ کرنے کا کیا حکم ہے ؟

 

الجواب حامدا ومصلیا

واضح رہے کہ شریعت مطہرہ نے عورت کو پردہ میں رہنے کا حکم دیا ہے اور بلاضرورت گھر سے نکلنے سے منع کیا ہے یہاں تک کہ قرآن مجید میں بھی عورتوں کو گھروں میں رہنے کی تاکید کی ہے اور زمانہ جاہلیت کی طرح زیب وزینت اختیا ر کرتے ہوئے گھروں سے باہر نکلنے سے منع کیا ہے  اسی طرح نبی کریم ﷺ کے احادیث مبارکہ میں بھی عورت کو اس بات کا پابند بنایا گیا ہے کہ وہ گھر میں رہے بلا ضرورت گھر سے باہر نہ نکلیں ، ایک حدیث مبارکہ میں آیا ہے: کہ عورت پر دہ کی چیز ہے، جب وہ گھر سے باہر نکلتی ہے تو شیطان اس کی تاک میں لگ جاتا ہے ۔

حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کے معاملہ میں بھی یہ پسند فرمایا کہ عورتیں اپنے گھروں میں ہی نماز پڑھیں اور اسی کی ترغیب دی، چنانچہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں آپ کے پیچھے مسجدِ نبوی میں نماز پڑھنا پسند کرتی ہوں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں مجھے معلوم ہے، لیکن تمہارا اپنے گھر میں نماز پڑھنا زیادہ بہتر ہے۔۔۔ الخ

لہذا عورت کو حتی الامکان اپنے گھر میں رہنا چاہیے اور بلا ضرورت گھر سے ہرگز باہر نہیں نکلنا چاہیے۔اگر مجبوری میں کبھی نکلنا پڑے تو مکمل پردے کے ساتھ نکلے۔

بقیہ خاتون کا نفسِ گاڑی چلانا تو حرام نہیں ہے، لیکن اگر اس کی تربیت کے لیے غیرمحارم سے واسطہ پڑتاہو تو ڈرائیونگ کے ایسے تربیتی اسکول جانا جائز نہیں ہوگا البتہ اگر کوئی عورت ڈرائیونگ سیکھنا چا ہے تو باپردہ ہو کر اپنے کسی محرم سے سیکھ سکتی ہے نیز ضرورت کے وقت جبکہ کوئی محرم یا نوکر نہ ہو تو عورت خریداری کے لئے بھی جاسکتی ہے  اور ڈرائیونگ بھی کرسکتی ہے  بشرطیکہ  اس کا سفر سفر شرعی سے کم ہو۔

 


كماقال الله تعالیٰ:


وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى وَأَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَآتِينَ الزَّكَاةَ وَأَطِعْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ.(سورة الأحزاب33).


وفى تفسير ابن كثير:

وقوله تعالى: وقرن في بيوتكن أي الزمن فلا تخرجن لغير حاجة.

(6/ 363/سورة الأحزاب/دار الكتب العلمية).

 

وفى سنن الترمذي:

 عن عبد الله، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: المرأة عورة، فإذا خرجت استشرفها الشيطان.هذا حديث حسن صحيح غريب.

(2/ 467/رقم الحديث1173/دار الغرب الإسلامي).

 

وفى مصنف ابن أبي شيبة:

عبد الحميد بن المنذر الساعدي، عن أبيه، عن جدته أم حميد، قالت: قلت: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم يمنعنا أزواجنا أن نصلي معك ونحب الصلاة معك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «صلاتكن في بيوتكن أفضل من صلاتكن في حجركن، وصلاتكن في حجركن أفضل من صلاتكن في الجماعة».

(2/ 157/رقم الحديث 7620/مكتبة الرشد).

 

وفی کنزل العمال:

عن ابن عمر رضی الله عنه. لیس للنساء في الخروج نصیب إلا مضرة.

(16/163/الباب السادس فی تر هیبات/الفصل الاول فی الترهیبات/رقم الحديث45054/مكتبه رحمانيه:لاهور).

 

وفى رد المحتار:

وليس عدم التزيين خاصا بالحمام لما قاله الكمال. وحيث أبحنا لها الخروج فبشرط عدم الزينة في الكل، وتغيير الهيئة إلى ما لا يكون داعية إلى نظر الرجال واستمالتهم.

(3/ 146/باب المهر/مطلب في السفر بالزوجة/دار الفكر).