قبرستان کے اوپر جنازہ گاہ بنانا

08 جنوری 2024

بسم الله الرحمن الرحيم

کیا فر ماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام  اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک  جگہ تقریباً بیس سال پُرانا قبر ستان ہے  جس میں مردے دفنانے کی جگہ ختم ہوگئی ہے  اور قبرستان مکمل بھر گیا ہے  اور علاقہ بڑا ہے لیکن وہاں پر کوئی جناز گاہ نہیں ہے   اور وہاں اس جگہ کے علاوہ کوئی  اور جگہ نہیں ہے تو اہل علاقہ کی رائے یہ ہے کہ  قبرستان کے چاروں طرف ستون کھڑے کر کے  اس کے اوپر چھت ڈالا جائے جس کو بطورِ جناز گاہ استعمال کیا جاتا رہے  اور اس چھت کے  اوپر مدر سہ بنالیا جائے تاکہ بچے بھی وہاں قرآنی تعلیم حاصل کرتے رہیں ، اور قبر ستا ن جانے والوں کو بھی کوئی تکلیف نہیں ہوگی  بلکہ وہ آسانی کے ساتھ چھت کے نیچے سے گزر کر قبرستان جاسکیں گے تو اب پو چھنا یہ ہے کہ کیا شرعی اعتبار سے یہ جائز ہے یا ناجائز؟

 


الجواب حامدا ومصلیا


 واضح رہے کہ جوزمین  جس مقصد کے لئے وقف کی جائے تو اسی میں استعمال کرناضروری ہے ، البتہ صورت مسئولہ میں چونکہ اہل علاقہ کو جناز گا ہ کی ضرورت ہے اور  قبرستان کے اوپر جنازگا ہ بنانے کے علاوہ  اور کوئی جگہ بھی نہیں ہے اور قبرستان بھی بھر چکا ہے جس میں  مزید مردے دفنانے  کی کوئی جگہ ہی نہیں ہےجیساکہ سوال میں مذکور ہے ، لہٰذ اس صورت میں اہل علاقہ کی متفقہ رائے سے اس کے اوپر چھت ڈال کر جناز گاہ بنانا جائز ہے اور اسی طرح اس جناز گاہ کے اوپر مدرسہ بنانا بھی جائز ہے ، لیکن مندرجہ ذیل  باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔

(۱)اگر وہ جگہ کسی کی مملوکہ ہو تو مالک سے اجاز ت لے کر اور اگروقف شدہ ہوتو اہل علاقہ کے متفقہ رائے سے اس کے اوپر  چھت ڈالنا جائز ہے ۔

(۲)قبروں کو کوئی نقصان نہ پہنچے بلکہ خالی جگہوں پر ستون کھڑے کرکے اوپر چھت ڈالی جائے ۔

(۳)قبرستان میں آنے جانے والوں کے لئے کوئی دشواری اور تنگی نہ ہو۔

(۴)جس چھت کو جناز گاہ بنایا جارہاہے اس کے سامنے قبریں نہ ہو۔

 

كمافى عمدة القاري شرح صحيح البخاري:


وأما المقبرة الداثرة إذا بني فيها مسجد ليصلى فيه فلم أر فيه بأسا، لأن المقابر وقف، وكذا المسجد، فمعناها واحد.

(4/ 179/باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد/ دار إحياء التراث العربي).

 

وايضاّ:

قال ابن القاسم: لو أن مقبرة من مقابر المسلمين عفت فبنى قوم عليها مسجدا لم أر بذلك بأسا، وذلك لأن المقابر وقف من أوقاف المسلمين لدفن موتاهم لا يجوز لأحد أن يملكها، فإذا درست واستغنى عن الدفن فيها جاز صرفها إلى المسجد، لأن المسجد أيضا وقف من أوقاف المسلمين لا يجوز تملكه لأحد، فمعناهما على هذا واحد. وذكر أصحابنا أن المسجد إذا خرب ودثر ولم يبق حوله جماعة،والمقبرة إذا عفت ودثرت تعود ملكا لأربابها، فإذا عادت ملكا يجوز أن يبنى موضع المسجد دارا وموضع المقبرة مسجدا وغير ذلك، فإذا لم يكن لها أرباب تكون لبيت المال.

(4/ 179/باب هل تنبش قبور مشركي الجاهلية ويتخذ مكانها مساجد/ دار إحياء التراث العربي):

           

 وفی رد المحتار:

ولو بلي الميت وصار ترابا جاز دفن غيره في قبره وزرعه والبناء عليه اهـ.

(2/ 233/باب صلاة الجنازة/مطلب في دفن الميت/دار الفكر):

 

وايضاً:

 (قوله على حكم ملك الله تعالى) قدر لفظ حكم ليفيد أن المراد أنه لم يبق على ملك الواقف ولا انتقل إلى ملك غيره، بل صار على حكم ملك الله تعالى الذي لا ملك فيه لأحد سواه.

(4/ 338 كتاب الوقف/دار الفكر).

 

وفی الفتاوى الهندية:

ولا يجوز تغيير الوقف عن هيئته فلا يجعل الدار بستانا ولا الخان حماما ولا الرباط دكانا، إلا إذا جعل الواقف إلى الناظر ما يرى فيه مصلحة الوقف، كذا في السراج الوهاج.

(2/ 490 الباب الرابع عشر في المتفرقات/دار الفكر).