چائنہ سالٹ کے کاروبار کا حکم

02 نومبر 2023

 بسم الله الرحمن الرحيم

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ چائنہ سالٹ کا کیا حکم ہے اور اس کا کاروبارکرنا جائز ہے یا نہیں، چونکہ حکومت پاکستان کی طرف سے پابندی ہے لیکن اس کے بغیر باقی کام نہیں چلتا۔ میرا مصالحہ جات کا کاروبار ہے جب وہ فروخت کرتا ہوں تو ساتھ میں چائنہ سالٹ نہ ہو تو وہ مصالحہ بھی نہیں فروخت ہوتا تو میرا اس کو اپنے سامان میں شامل کرنا جائز ہے یا نہیں؟

 

الجواب حامدا ومصلیا

واضح رہے کہ حکومت کا کوئی قانون اگر شرعی احکام کے متصادم نہ ہو اور مفاد عامہ کو مدنظر رکھ کر بنایا گیا ہو توا س کی پاسداری شرعا ضروری ہے جہاں تک ہو سکے ان قوانین پر عمل کرنا چاہئے اور خلاف ورزی سے گریز کرنا چاہئے ، اور    چائنیز نمک میں اگر حرام اجزاء یا مضر صحت اشیاء شامل نہ ہوں تو اس کا استعمال اور خرید و فروخت جائز ہے۔ اگر خاص "اجینو موتو" کے حوالے سے حکم معلوم کرنا مقصود ہے تو چائنا میں تیار کردہ اجینو موتو ناجائز ہے جب کہ ملائیشیا میں تیار کردہ اجینو موتو جائز ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر چائنہ سالٹ میں حرام اجزاء نہ ہوں تو اس کا کاروبار کرنا جائز ہے لیکن چونکہ حکومت نے اس کے کاروبار پر پابندی لگائی ہوئی ہے تو اپنی جان یا مال کو ہلاکت میں ڈالنا درست نہیں ہے اس لئے بچنا بہتر ہے۔

 

كما قال الله تبارك وتعالى:

(وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ).

[البقرة: 195].

 

وفى التفسير المظهري:

 وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ قيل الباء زائدة وعبر بالأيدي عن الأنفس وقيل فيه حذف اى لا تلقوا أنفسكم بايديكم يعنى باختياركم والإلقاء طرح الشيء وعدى بالى لتضمن معنى الانتهاء- والقى بيده لا يستعمل الا في الشر إِلَى التَّهْلُكَةِ اى الهلاك- قيل كل شىء يصير عاقبته الى الهلاك فهو التهلكة وقيل التهلكة ما يمكن الاحتراز عنه والهلاك ما لا يمكن الاحتراز عنه.

(1/ 215 سورة البقرة/ مكتبة الرشدية).