بسم الله الرحمن الرحيم
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام کہ پانی پینے سے پہلے یہ دعا مشہور ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: وَسقٰیھم ربّہم شراباً طہوراً۔ کیا یہ دعا مسنون ہے یا اس کے علاوہ کوئی اور دعا مسنون ہے؟
الجواب حامدا ومصلیا
حدیث میں آیا ہے کہ پانی یا کوئی اور چیز بیٹھ کر پیے، اور اونٹ کی طرح ایک سانس میں نہ پیے، بلکہ دو یا تین سانسوں میں پیے، اور برتن میں نہ سانس لے نہ پھونکے، اور جب پینے لگے تو بِسْمِ اللهِ، اور جب پی چکے تو اَلْحَمْدُ للهِ کہے۔
لہذا پانی پینے سے پہلے صرف "بسم اللہ" کہنا مسنون ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جب تم پانی پینے لگو تو بسم اللہ کہو اور جب برتن کو اپنے منہ سے ہٹاؤ تو حمد کرو یعنی ہر بار میں یا آخری بار میں الحمدللہ کہو۔
سوال نامہ میں مذکور دعا یہ سورہ دہر کی آیت ہے : وَسَقَاہُمْ رَبُّہُمْ شَرَابًا طَہُوْرًا اس کا پانی پینے سے پہلے پڑھنا آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے ثابت نہیں ہے۔
کما فی الحدیث:
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَشْرَبُوا وَاحِدًا كَشُرْبِ الْبَعِيرِ، وَلَكِنِ اشْرَبُوا مَثْنَى، وَثُلَاثَ، وَسَمُّوا إِذَا أَنْتُمْ شَرِبْتُمْ، وَاحْمَدُوا إِذَا أَنْتُمْ رَفَعْتُمْ۔ (سنن الترمذی، رقم : ١٨٨٥)فقط
سنن الترمذي، 4/302، مصر)، (مشکاۃ شریف)