بہنوں کی وراثت

29 نومبر 2022

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام کہ آج سے تقریبا تیس سال پہلے دادا جان کے انتقال کے بعد انکے چالیسویں کے موقع پر میرے والد صاحب اور انکے بھائیوں نے اپنی تمام بہنوں سے دستخط لے لئے تھے کہ وہ اپنا وراثت میں حصہ اپنے تمام بھائیوں کو بیچ رہی ہیں۔ یہ فیصلہ میری معلومات کے مطابق باہمی رضامندی سے نہیں ہوا تھا۔ وراثت کے حصہ کی بنیاد پر بہنوں کو کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔ اگرچہ عید تہوار پر رسومات ضرور ادا کی گئیں۔ تمام بہنوں کے مالی حالات متوسط نوعیت کے ہیں لحاظہ ضرورت کے موقع پر وہ اپنا حصہ لینے کی خواہش بھی ظاہر کرتی ہیں۔ 

ابھی صورت حال یہ ہے کہ میرے والد محترم اپنی یادداشت کھو چکے ہیں۔ جبکہ تایا جان اور میری ایک پھوپھو وفات پا چکے ہیں۔ میرے والد محترم کی بھی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں رہتی۔ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیجئے کی میرے والد محترم پر اپنی بہنوں کا ادھار ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس نوعیت کا اور اسے ادا کرنے کا بہترین طریقہ کیا ہے؟ والد صاحب کا (یادداشت جانے سے پہلے ) اور انکے بھائیوں اور انکی بیگمات اور اولاد کا موقف یہ ہے کہ بہنوں کے ساتھ عید تہوار پر دینا دلانا ہوتا رہتا ہے۔ لحاظہ وراثت کے حصے کا تذکرہ مناسب نہیں اور اگر کوئی مانگتا ہے تو اسے محض دادا جان کی آبائی زمین میں سے حصہ دیا جائے گا اس میں سے نہیں جو دادا جان نے اپنے بیٹوں کی کمائی سے خریدی تھی۔ مزید یہ کہ اگر بہنوں کا مطالبہ ہو ادائیگی کا تو انہیں انکے حصے کی ادائیگی آج سے تقریبا تیس سال پہلے والے ریٹ پر کی جائیگی۔

دادا جان نے ترکے میں ایک آبائی گھر کے علاوہ زرعی زمین چھوڑی ہے۔ تمام زمین و جائیداد دادا جان ہی کے نام تھیں ۔ میرے والد صاحب پانچ بھائی اور چھ بہنیں ہیں۔ ایک بھائی اور ایک بہن وفات پا چکے ہیں۔

3 بھائیوں کا دعوٰی ہے کے وہ دادا جان کو زمین خریدنے کے لیے رقم بھیجتے تھے۔ پانچ بھائیوں نے زمین آپس میں تقریبا برابر تقسیم کی ہے۔ بہنوں کو شامل نہیں کیا۔ میرے والد صاحب نے اپنی کچھ زمین بیچ کر اپنی ذاتی فیکٹری میں لگائی ہے۔ باقی بھائیوں کی زمین ذاتی کاشت اور ٹھیکے پر لگی ہوئی ہے۔ اب اپنی ضروریات کے پیش نظر سب اپنے حصے کی زمین بیچنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ تیس سال پہلے کوئی زمین وغیرہ فروخت نہیں کی گئ۔ بقول بہنوں کے دادا کی وفات کے موقع پر ہم سے جذباتی طور پر دستخط لئے گئے کہ ہمارا جو بھی وراثت میں حصہ ہے وہ ہم سب بہنیں اپنے تمام بھائیوں کو بیچتی ہیں۔ یہ محض ایک کاغذی کاروائی تھی۔ چونکہ بہنوں سے دستخط تقریبا 30 سال پہلے لئے گئے تھے تب ایک ایکڑ زمین کی قیمت تقریبا 1 لاکھ تھی اور اب 50 لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔

شریعت ہمیں اس معاملے میں کیا حکم دیتی ہے برائے مہربانی رہنمائی فرما دیجئے ۔

 

الجواب حامدا ومصلیا

واضح رہے کہ میراث میں بہنوں کاحق قرآن مجید میں مذکورہے جس طرح بھائیوں کووراثت میں حصہ ملتا ہے اسی طرح بہنوں کو بھی حصہ ملتا ہے اور بہنوں کو ان کا حصہ دینا ضروری ہے  البتہ بھائیوں کو بنسبت بہنوں کے دُگنا حصہ ملتا ہے   اسی طرح اگر وہ  بھائیوں کے لئے اپنا حصہ چھوڑنا چاہتی  ہیں    تو تقسیم میراث سے قبل بغیر قبضہ کئےانہیں اپناحصہ معاف کرنے کا اختیا ر نہیں ہے البتہ میراث کی تقسیم اور ان کا اپنے حصہ پر قبضہ کرنے کے بعد وہ بھائیوں میں سے جس کے لئے چا ہے اپناحصہ معاف کر سکتی ہے۔    

لہٰذ ا صورت مسئولہ میں   بھائیوں  کا مرحوم والد صاحب کے وراثتی گھر  اور زمینوں کو صرف آپس میں تقسیم کرنا درست نہیں ہے بلکہ ان میں بہنوں کا بھی مکمل حصہ موجود ہے جو بہنوں کو دینا ضروری ہے اور صرف دستخط کروا لینے سے بہنوں کا حصہ ختم نہیں ہو جاتا البتہ اگر مکمل وراثت تقسیم کر کے بہنوں کے قبضہ میں دے دی جائے پھر اس کے بعد اگر کوئی بہن اپنا حصہ کسی بھائی کو دیتی ہے تو وہ جائز ہوگا اور اگر گھر اور جائیداد فروخت کر کے حصہ دینا ہو تو موجودہ قیمت کے اعتبار سے رقم دینی ہوگی۔

آپ کے والد صاحب نے جو زمین فروخت کی ہے  اس کا حساب کر کے دیکھا جائے کہ اگر وہ ان کے حصے کے مطابق ہے تو ٹھیک ہے اور اگر زیادہ فروخت کی ہے تو زائد زمین کی قیمت باقی ورثاء کو واپس کر دیں اور اس صورت میں وہی قیمت دینی ہوگی جو فروخت کرنے کے وقت تھی۔

 


كما قال الله تبارک وتعالیٰ:


{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا} [النساء: 29].

 

وايضاّ:


يُوصِيكُمُ اللّهُ فِي أَوْلاَدِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ. (سورة النساء 11).

 

وايضاّ:

وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ(سورة النساء 176).

 

وفى مشكاة المصابيح:

عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه.

(2/ 926/باب الوصايا/الفصل الثالث/ المكتب الإسلامي).

 

وفى حاشية ابن عابدين:

ولو قال تركت حقي من الميراث أو برئت منها ومن حصتي لا يصح وهو على حقه لأن الإرث جبري لا يصح تركه.

(8/ 89/كتاب الدعوى/باب دعوى النسب/ دار الفكر).

 

وايضاً:

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب.

(8/ 423/ كتاب الهبة/دار الفكر).

 

وفى الفتاوى الهندية:

ومنها أن يكون الموهوب مقبوضا حتى لا يثبت الملك للموهوب له قبل القبض وأن يكون الموهوب مقسوما إذا كان مما يحتمل القسمة وأن يكون الموهوب متميزا عن غير الموهوب ولا يكون متصلا ولا مشغولا بغير الموهوب حتى لو وهب أرضا فيها زرع للواهب دون الزرع أو عكسه أو نخلا فيها ثمرة للواهب معلقة به دون الثمرة أو عكسه لا تجوز وكذا لو وهب دارا أو ظرفا فيها متاع للواهب كذا في النهاية ومنها أن يكون مملوكا فلا تجوز هبة المباحات لأن تمليك ما ليس بمملوك محال ومنها أن يكون مملوكا للواهب فلا تجوز هبة مال الغير بغير إذنه لاستحالة تمليك ما ليس بمملوك للواهب كذا في البدائع.

(4/ 374/الباب الأول في تفسير الهبة وركنها وشرائطها وأنواعها وحكمها.../ دار الفكر).

 

وايضاً:

إذا كانت التركة بين ورثة فأخرجوا أحدهما منها بمال أعطوه إياه والتركة عقار أو عروض صح قليلا كان ما أعطوه أو كثيرا وإن كانت التركة ذهبا فأعطوه فضة أو كانت فضة فأعطوه ذهبا فهو كذلك لأنه بيع الجنس بخلاف الجنس فلا يشترط التساوي ويعتبر التقابض في المجلس فإن كان الذي في يده بقية التركة جاحدا يكتفى بذلك القبض وإن كان مقرا غير مانع لنصيبه فلا بد من تجديد القبض وهو أن يرجع إلى موضع فيه العين ويمضي وقت يتمكن فيه من قبضه كذا في الكافي ولو ترك دراهم وعروضا وصولح على دراهم فإن كان ما أخذه من الدراهم أكثر من نصيبه من الدراهم جاز وجعل المثل من الدراهم والباقي بإزاء العروض.

(4/ 268/كتاب الصلح /الباب الخامس عشر في صلح الورثة والوصي في الميراث والوصية/ دار الفكر).

 

 

وفى قره عين الأخيار لتكملة رد المحتار علي الدر المختار:

الارث جبري لَا يسْقط بالاسقاط.

(8/ 116/كتاب الدعوى/باب التحالف/دار الفكر).

 

وفى الأشباه والنظائر لابن نجيم:

لو قال الوارث: تركت حقي لم يبطل حقه؛ إذ الملك لا يبطل بالترك.

(ص:272/الفن الثالث: الجمع والفرق/ما يقبل الإسقاط من الحقوق وما لا يقبله/ دار الكتب العلمية).

 

وفى المجلة الأحكام العدلية:

كل يتصرف في ملكه كيف شاء.

(ص: 230/ مادة 1192/ الفصل الأول في بيان بعض قواعد في أحكام الأملاك/كارخانه تجارت كتب).