بسم الله الرحمن الرحيم
کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری ایک بکری تھی اس کے پیچھے دو کتے لگے اور اس کو کافی بھگایا اور تھوڑا کاٹ بھی ڈالا پھر علم ہو گیا تو اس کو چھڑا لیا گیا اور اس کی پٹی وغیرہ کر دی گئی اور وہ ٹھیک ہو گئی لیکن دو دن گزرنے کے بعد کچھ سست ہو گئی اور بیمار ہونے لگی تو ہم نے اس کو ذبح کر دیا اس کے کھانے کا کیا حکم ہے اور اگر یہ قربانی یا عقیقہ کے لئے ہو تو کیا حکم ہوگا؟
الجواب حامدا ومصلیا
کتا جس کو کاٹتا ہے تو بعض مرتبہ اس کے زہریلے اثرات پورے جسم میں اور ہرہر جزء میں سرایت کرجاتے ہیں جو صحت کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں، اس لیے اس کا گوشت نہ کھانا چاہیے، بلکہ اسے گڑھا کھود کر کہیں دفن کردینا چاہیے۔لیکن اگر زہر کا اثر ختم ہوگیا ہے تو اس کا گوشت کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
اور اگر کتے کے کاٹنے سے مذکورہ بکری کو کوئی ایسا گہرا زخم نہ آیا ہو جس سے جانور میں قربانی سے مانع کوئی عیب پیدا ہوتا ہے ، یا گہرا زخم ہو لیکن وہ بھر چکا ہو تو اس بکری کی قربانی اور عقیقہ درست ہے، اسی طرح اگر فی الحال عیب پیدا ہوا ہولیکن وہ عیب ختم ہو چکا ہوتب بھی قربانی اور عقیقہ درست ہے، البتہ اگر ایسا زخم آیا ہو جس سے بکرے میں قربانی سے مانع عیب پیدا ہوگیا ہو تو اگر قربانی کرنے والا صاحبِ نصاب ہے تو دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے گا، اور اگر فقیر ہے تو اسی جانور کی قربانی کرےگا یہ کافی ہو جائے گی۔باقی کتے کے صرف کاٹنے سے شرعاً قربانی پر کوئی فرق نہیں پڑےگا۔
كما فى الفتاوى الهندية:
ومن المشايخ من يذكر لهذا الفصل أصلا ويقول: كل عيب يزيل المنفعة على الكمال أو الجمال على الكمال يمنع الأضحية، وما لا يكون بهذه الصفة لا يمنع، ثم كل عيب يمنع الأضحية ففي حق الموسر يستوي أن يشتريها كذلك أو يشتريها وهي سليمة فصارت معيبة بذلك العيب لا تجوز على كل حال، وفي حق المعسر تجوز على كل حال، كذا في المحيط.
ولواشترىرجلأضحيةوهيسمينةفعجفتعندهحتىصارتبحيثلواشتراهاعلىهذهالحالةلمتجزئهإنكانموسرا،وإنكانمعسراأجزأتهإذلاأضحيةفيذمته،فإناشتراهاللأضحيةفقدتعينتالشاةللأضحيةحتىلوكانالفقيرأوجبعلىنفسهأضحيةلاتجوزهذه،ولواشترىأضحيةوهيصحيحةالعين،ثماعورتعندهوهوموسرأوقطعتأذنهاكلهاأوأليتهاأوذنبهاأوانكسرترجلهافلمتستطعأنتمشيلاتجزيعنه،وعليهمكانهاأخرىبخلافالفقير
(5/ 299البابالخامسفيبيانمحلإقامةالواجب/دار الفكر).
وفى رد المحتار:
(ولو) (اشتراها سليمة ثم تعيبت بعيب مانع) كما مر (فعليه إقامة غيرها مقامها إن) كان (غنيا، وإن) كان (فقيرا أجزأه ذلك) وكذا لو كانت معيبة وقت الشراء لعدم وجوبها عليه بخلاف الغني، ولا يضر تعيبها من اضطرابها عند الذبح وكذا لو ماتت فعلى الغني غيرها لا الفقير
(6/ 325كتابالأضحية/دار الفكر).
وفى الهداية في شرح بداية المبتدي:
ولو اشتراها سليمة ثم تعيبت بعيب مانع إن كان غنيا عليه غيرها، وإن فقيرا تجزئه هذه" لأن الوجوب على الغني بالشرع ابتداء لا بالشراء فلم تتعين به، وعلى الفقير بشرائه بنية الأضحية فتعينت، ولا يجب عليه ضمان نقصانه كما في نصاب الزكاة.
(4/ 359كتابالأضحية/دار الفكر).
وفى تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي:
ولو اشتراها سليمة ثم تعيبت بعيب مانع من التضحية كان عليه أن يقيم غيرها مقامها إن كان غنيا، وإن كان فقيرا يجزئه ذلك؛ لأن الوجوب على الغني بالشرع ابتداء لا بالشراء فلم يتعين بالشراء.
والفقير ليس عليه واجب شرعا فتعينت بشرائه بنية الأضحية، ولا يجب عليه ضمان نقصانها؛ لأنها غير مضمونة عليه فأشبهت نصاب الزكاة، وعن أبي سعيد أنه قال «اشتريت كبشا أضحي به فعدا الذئب فأخذ الألية قال فسألت النبي - صلى الله عليه وسلم - فقال ضح به» رواه أحمد، ويحمل على أنه كان فقيرا؛ لأن الغني لا يجزئه
(6/ 6 مايضحىبه/المطبعةالكبرىالأميرية).