مجنون پر زکاۃ کا حکم

02 اکتوبر 2022

بسم الله الرحمن الرحيم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے دو بھائی ہیں اور دونوں ہی مجنون ہیں ان کا کچھ مال میرے پاس جمع ہے اور میں نے وہ محفوظ کر کے رکھا ہوا ہے اور ان دونوں پر خرچ اپنے پاس سے کرتا ہوں کیا ان کے محفوظ شدہ مال پر زکوۃ فرض ہے یا نہیں کیونکہ اس مال کو آئے ہوئے ایک سال گزرنے والا ہے؟


 

الجواب حامدا ومصلیا

زکاۃ عبادات کے قبیل سے ہے اور عبادات کے احکامات کا مکلف ہونے کیلئے  مسلمان عاقل اور بالغ ہونا شرط ہے لہٰذا ایسا مجنون جوجنوں کی حالت میں بالغ ہوا یا بالغ ہونے کے بعد جنون طاری ہو ا  اور پھر مستقل طور پر مجنون رہا تو ان دونوں صورتوں میں اس کے مال میں زکوۃ واجب نہیں اسی طرح اگر آدھے سال یا اس سے زیادہ مجنون رہا تب بھی زکوۃ واجب نہیں ہوگی تاہم اگر بالغ ہوجانے کے بعد اور جنون طاری ہونے سے پہلے صاحب نصاب ہوا تھا  اور اس پر سال بھی گزرچکا تھا  اس کے بعد مجنون ہوا تو اس صورت میں  اس زمانے کی زکوۃ اس کے مال سے اداکی جائے گی اس طرح اگر کوئی آدھا سال یا زیادہ تندرست رہا صاحب نصاب ہونے کے بعد تو اس کے مال سے بھی زکوۃ نکالی جائے گی ۔ نیز یہ بات یا د رہے کہ  مجنون جب تندرست ہو جائے  تو اس وقت زکوۃ کا سال شروع ہوگا ۔

لہٰذا صورت مسئولہ میں مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق آپ کے بھائیوں کے مال میں زکوۃ کے واجب ہونے اور نہ ہونے کا حکم لگایا جاچکا۔


 


کما فی القرآن الکريم:


{ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا (5)}

[النساء: 5].

 

وفی تفسير ابن كثير:

وقوله: {وارزقوهم فيها واكسوهم وقولوا لهم قولا معروفا} قال علي بن أبي طلحة، عن ابن عباس يقول [تعالى] (9) لا تعمد إلى مالك وما خولك الله، وجعله معيشة، فتعطيه امرأتك أو بنيك، ثم تنظر (10) إلى ما في أيديهم، ولكن أمسك مالك وأصلحه، وكن أنت الذي تنفق عليهم من كسوتهمومؤنتهمورزقهم.

(2/ 214 تفسيرسورةالنساء/ دارطيبةللنشروالتوزيع).

 

وفی مختصر القدوري:

الزكاة: واجبة على الحر المسلم البالغ العاقل إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول وليس على صبي ولا مجنون والمكاتب زكاة۔

(ص51  كتاب الزكاة /دار الکتب العلميه).

 

وفی الهداية في شرح بداية المبتدي:

" الزكاة واجبة على الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملك نصابا ملكا تاما وحال عليه الحول.

(1/ 95 كتابالزكاة/ داراحياءالتراثالعربي).

 

وفی الدر المختار وحاشية ابن عابدين:

(قوله: وشرطه إلخ) ما تقدم في قول المصنف وشرط افتراضها عقل إلخ شروط في رب المال.

(2/ 267 كتابالزكاة/ دارالفكر).

 

 

وأيضا:

 (قوله عقل وبلوغ) فلا تجب على مجنون وصبي لأنها عبادة محضة وليسا مخاطبين بها، وإيجاب النفقات والغرامات لكونها من حقوق العباد والعشر، وصدقة الفطر لأن فيهما معنى المؤنة. ولا خلاف أنه في المجنون الأصلي يعتبر ابتداء الحول من وقت إفاقته كوقت بلوغه. أما العارضي، فإن استوعب كل الحول فكذلك في ظاهر الرواية وهو قول محمد ورواية عن الثاني وهو الأصح وإن لم يستوعبه لغا وعن الثاني: أنه يعتبر في وجوبها إفاقة أكثر الحول نهر

(2/ 258كتابالزكاة/ دارالفكر).