ہنڈی کا کاروبار

18 مئی 2022

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص کسی سرکاری ادارے سے منسلک ہے، یعنی ادارہ کو اشیاء فراہم کرتا ہے، جیسے کہ ایک پرائیویٹ کانٹریکٹر ہوتا ہے۔

وہ اشیاء یا پراڈکٹ پاکستان میں نہیں ملتی لہذا باہر سے منگوائی جاتی ہیں، جس کیلئے پہلے ملک سے باہر ایک اکاؤنٹ میں پیسے بھیجے جاتے ہیں پھر مال کا آرڈر دیا جاتا ہے اس کے بعد چیز پاکستان آتی ہے اور ادارہ کو فراہم کی جاتی ہے۔اس پورے دورانیہ میں  کبھی 3 ماہ کبھی کم یا اس سے بھی زیادہ لگ جاتے ہیں۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے، اصل ماجرہ  یہ ہے کہ رقم ملک سے باہر منتقل کرنے کیلئے یا اگر رقم میں سے  کچھ واپس پاکستان منگانی ہو تو "ہنڈی" کا راستہ استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ بینک کے ذریعے بھاری ٹیکس دینے پڑتے ہیں لہذا اس سے بچنے کا یہی راستہ ہے  اور چونکہ جو مال ادارہ مانگتا ہے وہ اسپیشل آرڈر  پر ہی تیار کیا جاتا ہے،کیونکہ  اب تک پاکستان میں ایسی کوئی کمپنی موجود نہیں جو اس قسم کا سامان بناتی ہو۔ یہی وجہ ہے پراڈکٹ باہر سے منگوایا جاتا ہے۔اب سوال یہ ہے:

1۔ ہنڈی کا کاروبار کرنا بذاتِ خود کیسا ہے؟

2۔ ہنڈی کے ذریعے اپنی رقوم بھیجنا یا منگوانا کیسا ہے؟

3۔ جو شخص ہنڈی کے راستے فراہم  کرتا ہے، ایسے شخص کے مال کے بارے میں شریعت کیا کہتی ہے - حلال یا حرام؟

4۔ اور اس بندہ کیساتھ کاروبار میں شراکت داری کرنا ٹھیک ہے یا غلط، یا ناجائز ہے؟

5۔ اگر وہ شخص جانکاری رکھنے کے بعد یہ عہد کر دے کہ مستقبل قریب میں اس کاروبار کو ختم کرکے کوئی دوسرا مشغلہ چنے مال کمانے کا، تو کیا پھر، اس بندے کے ساتھ کاروبار میں شراکت کرنا ٹھیک ہوگا یا تب تک صبر کیا جائے جب تک مکمل کاروبار ہی بدل جائے؟

از    مغیرہ کنڈی

الجواب حامدا ومصلیا

ہنڈی کا کاروبار ملکی وبین الاقوامی قوانین کی رو سے ممنوع ہے ؛ اس لیے رقم کی ترسیل اور کاروبار  کے لیے جائز قانونی راستہ ہی اختیار کرنا چاہیے ، البتہ اگر کسی نے ہنڈی کے ذریعے رقم بھجوائی  یا اس کاروبار میں شراکت کی  تو اسے مندرجہ ذیل شرعی حکم کی تفصیل ملحوظ رکھنا لازمی ہے :

اول: چونکہ مروجہ ہنڈی (حوالہ) کی حیثیت قرض کی ہے؛ اس لیے جتنی رقم دی جائے اتنی ہی رقم آگے پہنچانا ضروری ہے، اس میں کمی بیشی جائز نہیں ہے، البتہ بطورِ فیس/اجرت الگ سے طے شدہ اضافی رقم لی جاسکتی ہے۔

دوم: کرنسیوں کے مختلف ہونے کی صورت میں لازم ہے کہ دوسرےملک جہاں قرض کی ادائیگی کرنی ہے ( مثلاً پاکستان میں) ادائیگی کے وقت یا تو قرض لی ہوئی کرنسی (مثلاً درہم )  ہی پوری پوری واپس کرے یا پھر  جتنے درہم قرض  دیے گئے تھے ادائیگی یا وصولیابی کے دن پاکستان میں درہم کے جو ریٹ چل رہے ہوں ان میں سے ہی کسی ایک ریٹ کے مطابق، قرض دیے گئے درہم کے جتنے پاکستانی روپے بنتے ہوں، پاکستان میں ادا کیے جائیں،  درھم کے  مارکیٹ ریٹ سے کم یا زیادہ  طے کر کے لین دین کرنا جائز نہیں ہے۔ اجرت جدا گانہ طے کی جائے۔

حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم اپنی کتاب اسلام اور جدید معاشی مسائل  میں ہنڈی کے بارے میں تحریر فرماتے ہیں:

ہنڈی کا کاروبار اور اس کے ذریعے ایک ملک سے دوسرے ملک رقم بھجوانا تین شرائط کے ساتھ جائز ہے:

اول: دوسرے ملک کی کرنسی کے ساتھ تبادلہ کا معاملہ ثمنِ مثل پر کیا جائے، یعنی عام مارکیٹ میں معاملہ کے دن اس کرنسی کی جو قیمت ہو اسی قیمت کے بدلے تبادلہ کیا جائے، قیمت اس سے کم یا زیادہ مقرر نہ کی جائے۔

دوم: دونوں عوضوں میں سے کسی ایک پر مجلسِ عقد میں قبضہ کیا جائے، یعنی معاملہ کرتے وقت وہ شخص جو پاکستان پہنچ کر یا اپنے نمایندہ کے ذریعہ پاکستانی روپیہ اداء کرنا اپنے ذمہ لے رہا ہو وہ اسی مجلس میں اس دوسری کرنسی (ریال وغیرہ) پر قبضہ کرلے جس کا بدلہ وہ پاکستانی روپیہ میں اداء کرے گا۔

سوم: ہنڈی کے ذریعہ رقم بھیجنا قانوناً منع نہ ہو۔

مذکورہ بالا شرائط میں سے اگر پہلی دو شرائط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو یہ معاملہ سرے سے ناجائز ہوگا اور کمائی حرام ہوجائے گی۔ اور اگر تیسری شرط کا لحاظ نہ رکھا گیا تو قانون کی خلاف ورزی کا گناہ ہوگا، باقی معاملہ فی نفسہ درست رہے گا، یعنی کمائی حرام نہیں ہوگی۔ (مأخذہٗ: اسلام اور جدید معاشی مسائل، مجموعۂ رسائلِ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم: (4/ 157 ہنڈی کا حکم/ ادارہ اسلامیات).

كما قال الله تبارك وتعالى:

(وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ).

[البقرة: 195].

وفى التفسير المظهري:

 وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ قيل الباء زائدة وعبر بالأيدي عن الأنفس وقيل فيه حذف اى لا تلقوا أنفسكم بايديكم يعنى باختياركم والإلقاء طرح الشيء وعدى بالى لتضمن معنى الانتهاء- والقى بيده لا يستعمل الا في الشر إِلَى التَّهْلُكَةِ اى الهلاك- قيل كل شىء يصير عاقبته الى الهلاك فهو التهلكة وقيل التهلكة ما يمكن الاحتراز عنه والهلاك ما لا يمكن الاحتراز عنه.

(1/ 215 سورة البقرة/ مكتبة الرشدية).

وفی  البناية شرح الهداية:

عن فضالة بن عبيد أنه قال: كل قرض جر منفعة فهو وجه من وجوه الربا.

(12/ 233 وضع درهما عند بقال يأخذ منه ما يشاء/ دار الكتب العلمية).

وفی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:

(وأما) الذي يرجع إلى نفس القرض: فهو أن لا يكون فيه جر منفعة، فإن كان لم يجز، نحو ما إذا أقرضه دراهم غلة، على أن يرد عليه صحاحا، أو أقرضه وشرط شرطا له فيه منفعة؛ لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه «نهى عن قرض جر نفعا» ؛ ولأن الزيادة المشروطة تشبه الربا؛ لأنها فضل لا يقابله عوض، والتحرز عن حقيقة الربا، وعن شبهة الربا واجب هذا إذا كانت الزيادة مشروطة في القرض.

(7/ 395 فصل في شرائط ركن القرض/ دار الكتب العلمية).

وفی الدر المختار:

وفي حظر الاشباه: الحرمة تتعدد مع العلم بها۔

(ص: 419 باب البيع الفاسد/ دار الفکر).