جمعہ کو فوت ہونے کی فضیلت

18 مئی 2022

کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص جمعہ کی فجر کے بعد فوت ہوتا ہے اور اس کو مغرب کے بعد دفن کرتے ہیں اسی طرح اگر کوئی شخص بدھ کو فوت ہوا اور کسی وجہ سے تدفین میں تاخیر ہوئی  اور جمعہ کو دفن کیا گیا تو کیا اس کو جمعہ کی فضیلت ملے گی یا نہ مطلب یہ کہ جمعہ کے دن کے فوت ہونے کی فضیلت جمعہ کے دن کے فوت ہونے کے ساتھ ہے یا دفن کرنے کے ساتھ ہے؟

الجواب حامدا ومصلیا

رمضان المبارک اور جمعہ کے دن  انتقال کرنے والے دونوں کےبارے میں روایات میں آتا ہے ان سے قبر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہے،  جمعہ کی رات یعنی جمعہ سے پہلے والی رات کا بھی یہی حکم ہے۔ اور حکم صرف فوت ہونے کا ہے دفن کرنا مراد نہیں ہے اس لئے یہ حکم فوت ہونے کے ساتھ متعلق ہے۔

اب یہ عذاب صرف رمضان المبارک اور جمعہ کے دن ہٹایا جاتا ہے یا تاقیامت، تو اس کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں: صرف ماہ رمضان المبارک اور جمعہ کے دن یہ عذاب اٹھادیا جاتا ہے، اور بعض فرماتے ہیں:  تا قیامت ان سے قبر کا عذاب ہٹادیا جاتا ہے اور  یہ قبر میں راحت و آرام کے ساتھ رہتے ہیں، زیادہ راجح یہی معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے حق میں یہ حکم عمومی ہے کہ اگر کسی مسلمان کا انتقال رمضان المبارک یا جمعہ کے دن ہوجائے تو تا قیامت عذابِ قبر  سے محفوظ رہے گا، اور اللہ کی رحمت سے یہ بعید بھی نہیں کہ وہ حشر میں بھی  اس سے حساب نہ لیں اور اگر کوئی غیر مسلم  رمضان المبارک میں مر جائے تو صرف ماہ مبارک کے احترام میں رمضان المبارک تک عذاب قبر سے محفوظ رہے گا،اور رمضان کے بعد پھر اسے عذاب ہوگا۔

كما فى سنن الترمذي:

عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من مسلم يموت يوم الجمعة أو ليلة الجمعة إلا وقاه الله فتنة القبر».

(3/ 378باب ما جاء فيمن مات يوم الجمعة/شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي).

وفى الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):

(قوله ويأمن الميت من عذاب القبر إلخ) قال أهل السنة والجماعة: عذاب القبر حق وسؤال منكر ونكير وضغطة القبر حق لكن إن كان كافرا فعذابه يدوم إلى يوم القيامة ويرفع عنه يوم الجمعة وشهر رمضان فيعذب اللحم متصلا بالروح والروح متصلا بالجسم فيتألم الروح مع الجسد، وإن كان خارجا عنه، والمؤمن المطيع لا يعذب بل له ضغطة يجد هول ذلك وخوفه والعاصي يعذب ويضغط لكن ينقطع عنه العذاب يوم الجمعة وليلتها ثم لا يعود وإن مات يومها أو ليلتها يكون العذاب ساعة واحدة وضغطة القبر ثم يقطع، كذا في المعتقدات للشيخ أبي المعين النسفي الحنفي من حاشية الحنفي ملخصا.

(2/ 165باب العيدين/دار الفكر).